ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریزرویشن کیلئے مختلف طبقات کی مانگ، مسلمانوں کے 4فیصد ریزرویشن کونشانہ بنانے کی سازش تو نہیں

ریزرویشن کیلئے مختلف طبقات کی مانگ، مسلمانوں کے 4فیصد ریزرویشن کونشانہ بنانے کی سازش تو نہیں

Fri, 12 Feb 2021 08:45:07    S.O. News Service

بنگلورو،12؍فروری(ایس او نیوز؍رضوان اللہ خان) کرناٹک میں مختلف طبقات کیلئے ریزرویشن کی مانگ جس شدت کے ساتھ اٹھی ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ حکومت کو ریزرویشن کے موجودہ نظام میں تبدیلی کیلئے مجبو ر ہونا پڑ سکتا ہے اوراس صورت میں ماہرین کا ماننا ہے حکومت کی طرف سے مختلف ذاتوں کو دئیے جانے والے ریزرویشن چارٹ میں تبدیلی کی جا سکتی ہے -

1992سے کرناٹک میں منڈل کمیشن سفارشات کی بنیاد پر ریزرویشن لاگو ہے اور اس دور میں ویرپا موئیلی حکومت کی طرف سے ریاست کے مسلمانوں کو 2Bزمرے کے تحت 4فیصد ریزرویشن دینے کی پہل کی گئی اور 1994کے دوران کرناٹک میں ایچ ڈی دیوے گوڈا کی قیادت میں برسراقتدار آنے والی جنتا دل حکومت نے اس کو عملی جامہ پہنا دیا- اس وقت سے اب تک کرناٹک میں 2Bزمرے کے تحت مسلمانوں کو روزگار اور تعلیمی میدان میں 4فیصد ریزرویشن حاصل ہے-

اب موجودہ بی جے پی حکومت میں ریزرویشن کیلئے مختلف طبقات کی طرف سے جس طرح کی آواز اٹھائی جا رہی ہے اس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے مختلف زمروں میں ریزرویشن کی تقسیم کیلئے اقلیتوں کو دئیے جانے والے ریزرویشن کو متاثر کیا جا سکتا ہے- یہ کہا جا رہا ہے کہ 2Bزمرے کے تحت مسلمانوں کو جو مخصوص ریزرویشن حاصل ہے اس پر گزشتہ چند برسوں کے دوران عمل پیرائی مکمل طور پر نہیں ہو پا رہی ہے -اس میں بہت سارے عہدوں کی بیک لاگ موجود ہے- یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بیک لاگ کو بنیاد بناکر حکومت کی طرف سے اقلیتوں کو حاصل 4فیصد ریزرویشن میں کمی لانے کی کوشش ضرورکی جا سکتی ہے-

ایک اندازے کے مطابق مسلمانوں کو جو 4فیصد ریزرویشن سرکاری ملازمتوں میں موجود ہے اس میں 1تا1.5فیصد کا بیک لاگ موجود ہے - اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس بیک لاگ کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کو ملنے والے ریزرویشن میں کمی لانے کی کوشش کر سکتی ہے-اس کے علاوہ یہ مانا جا رہا ہے کہ2A،3Aاور زمرہ 1کے تحت پیشہ ورانہ بنیاد پر چند مسلم طبقات کو ریزرویشن حاصل ہے- اندیشہ ہے کہ اگر2Aاور 3Aمیں جو ریزرویشن ان طبقات کو حاصل ہے کسی نئی ذات کے اس میں شامل ہونے سے اس میں شامل دیگرطبقات کی حصہ داری ازخود سکڑ سکتی ہے-

اس خدشہ کے سلسلہ میں جب وظیفہ یاب آئی پی ایس آفیسر یو نثار احمد سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کیلئے مخصوص 4فیصد ریزرویشن میں کٹوتی کرنا اتنا آسان نہیں البتہ ریزرویشن کیلئے جس طرح لنگایت طبقہ میں سے ایک گروپ، والمیکی اور کوروبا فرقہ کی طرف سے زور دیا جا رہا ہے اس کااثر 2A،3Aاور 1کے زمرے میں آنے والے ان مسلمانوں کے ریزرویشن پر راست طور پر پڑے گا جو پیشہ کے اعتبار سے ان زمروں میں شامل کئے گئے ہیں - چونکہ گزشتہ کئی برسوں سے سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو جو 4فیصد ریزرویشن حاصل ہے اس کی بیک لاگ موجود ہے- حالانکہ اس ضمن میں ریاستی حکومت کی طرف سے ایک حکم نامہ موجود ہے کہ مسلمانوں کو جو ریزرویشن دیا گیا ہے اس کے بیک لاگ کو بھی پر کیا جائے لیکن منتخب نمائندوں کی طر ف سے اس پر عمل کروانے میں جس طرح کی سنجیدگی دکھانی چاہئے تھی وہ نہیں دکھائی گئی - اس وجہ سے سالانہ بیک لاگ بڑھتا جا رہا ہے-اب ضرورت اس بات کی ہے کہ 4فیصد ریزرویشن کو برقرار رکھنے کیلئے منتخب نمائندو ں کی طرف سے متحدہ کوشش کی جائے اور یقینی بنایا جائے کہ بغیر بیک لاگ کے تمام تقررات پورے ہوجائیں - بصورت دیگر یہ عین ممکن ہے کہ حکومت کی طرف سے مسلمانوں کو حاصل ریزرویشن کی سہولت کو کسی نہ کسی ذریعے سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے-

اس ضمن میں رکن اسمبلی رضوان ارشد نے بتایا کہ اس سے قبل سدارامیا حکومت کے دورمیں جب لنگایتوں کیلئے ریزرویشن کی مانگ کی گئی تو اس مرحلہ میں وزیراعلیٰ نے یہ تجویز کیا تھا کہ مسلمانوں کے 2Bریزرویشن کو محفوظ رکھنے کیلئے رنگ فینس بنایا جائے تاکہ اس ریزرویشن کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچ سکے- لیکن اب کی موجودہ حکومت کے اعلیٰ ذرائع سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس رنگ فینس کے تحفظ کو ختم کر کے بیک لاگ میں جتنی آسامیاں سال بہ سال خالی رہ جا رہی ہیں ان کے تناسب سے اقلیتوں کے ریزرویشن کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے- اس سلسلہ میں جب محکمہ سماجی بہبود کے افسروں سے رابطہ کر کے ان سے تفصیل جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے اس کی تصدیق یا تردید کرنے سے صاف انکار کردیا-


Share: